Skip to content
Home » Blog » یوم عاشورا کا زورہ رکھنا

یوم عاشورا کا زورہ رکھنا


یا علیؐ مدد
یوم عاشورا کا زورہ رکھنا سخت منموع ہے۔بلکہ جہنمی ہونے کا باعث ہے۔
حوالہ۔(فروعِ کافی۔ کتاب الصوم۔ باب 61 )
1) -حدیث4۔ راوی نے امامؐ سے صومِ عاشورا کے متعلق پوچھا۔ آپؐ نےفرمایا ۔” اس روزے کا ذکر نہ کتابِ خدا میں ہے نہ سنتِ رسولﷺ میں، یہ امام حسین ؐ کے قتل کے بعد سنتِ آلِ زیاد (ملعون) قرار پائی ہے،،۔

2۔) حدیث5 راوی نے امام رضاؐ سے صوم عاشورہ کے متعلق پوچھا۔ فرمایا۔””کیا تم ابنِ مرجانہ (ابنِ زیاد ملعون) کےروزے کے متعلق سوال کرتے ہوا؟ ،یہ وہ دن ہے کہ قتل امام حسینؐ کے لئے آلِ زیادہ ملعون کےحرامیوں نے روزہ رکھا۔ اور یہ وہ دن ہئ کہ اہل اسلام نے اسے منحوس دن جانا۔ اہلبیتؐ نے اسے منحوس قراردیا ہے وہ نہ روزہ رکھتے ہیں اور نہ اس کو برکت کا دن جانتے ہیں، ہم نے اس شوم قراردیا ہے اور ہمارے دشمن نے اسے متبرک جانا ، روزِ عاشورا امام حسینؐ کو قتل کیا گیا اور ابنِ مرجانہ (ملعون) نے اسے بابرکت دن قراردیا۔ اورآلِ محمدؐ نے اسے منحوس جانا۔ پس جس نے اس دن روزہ رکھا اور برکت چاہی تو اللہ اس کے قلب کو مسخ کیا ہو قراردے گا ۔ اور اس کا حشران لوگوں کے ساتھ ہو گا جہوں نے اس دن کے روزے کو سنت قرار دیا اور مبرک سمجھا،،۔

3) حدیث 6۔ صوم عاشور کے متعلق امامؐ فرمایا۔ جو اس دن روزہ رکھے گا اس نصیبہ وہی ہو گا جو ابنِ زیاد ملعون کا،،

4) حدیث 7 ۔ امامؐ فرماتے ہیں عاشور کا دن وہ ہے کہ اس میں امام حسینؐ اپنے اصحاب کے درمیان سر کٹائے پڑے تھے۔ اور ان کے اصحاب کی لاشیں ان کے چاروں طرف تھیں۔ توکیا ایسے دن روزہ رکھنا چاہئے ؟ ہرگز نہیں! ربِ کعبہ کی قسم وہ روزے کا دن نہیں، وہ رنج و مصیبت کا دن ہے ۔ اس دن اہل سماوات وارض اور تمام مومنین کو رنج کرنا چائے۔وہ خوشی کا دن تھا ابنِ مرجانہ ملعون، اولا زیاد ملعون اور اہلِ شام کے لئے۔ ان پر اور ان کی اولاد پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔ یہ وہ دن ہے جس میں سوائے خطِ شام کے روئے زمین کے تمام خّطے روئے ہیں۔ جو کوئی اس دن زورہ رکھے گا اوربرکت حاصل کرنا چایے گا تو اللہ اس کو ممسوخ القلب محشور کرے گا اور اس کا غضب اس پر نازل ہوگا،،۔

Pegham_e_Wilayat

Leave a Reply

Discover more from AzadariMediaCell

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading